Tuesday, 3 June 2014

برطانوی عدالتیں آزاد ہیں، امید ہے انصاف ہو گا

برطانوی عدالتیں آزاد ہیں، امید ہے انصاف ہو گا



یم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری کی اطلاع پر سیاسی جماعتوں کا ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے اور سبھی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق معاملات آگے بڑھنے چاہییں، جبکہ انھوں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو صبر سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی

ایم کیو ایم کے گڑھ یعنی کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کو ایم کیو ایم کا حریف سمجھا جاتا ہے۔ جماعت کے ترجمان زاہد خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کو اس صورتحال میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ساتھ ہمدردی ہے اور امید ہے کہ برطانیہ کی عدالتیں ان کے ساتھ انصاف کریں گی۔
انھوں نے کہا: ’امید ہے کہ وہ ان کے ساتھ انصاف کریں گے کیونکہ وہاں کی عدالتیں اور پولیس آزاد ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی صورتحال کے حوالے سے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو صبر سے کام لینا چاہیے، کراچی کو بند کرنے اور ہنگامے کرنے سے پاکستان کو نقصان ہو گا برطانیہ کو نہیں ہوگا۔
زاہد خان نے کہا کہ برطانیہ میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کے وزیراعظم اور وزیروں کے خلاف تبھی کارروائی ہوتی ہے جب کوئی جرم ہو۔
الطاف حسین کی جانب سے حکومت پاکستان سے پاسپورٹ کی درخواست کی گئی تاہم انھیں پاسپورٹ نہیں دیا گیا۔ اس سوال پر کہ اگر ایسا ہو جاتا تو وہ بچ جاتے کیا پاکستان کی حکومت کا بھی اس میں کوئی کردار نظر آتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں اے این پی کے ترجمان زاہد خان نے کہا کہ ’میرے خیال میں ایسا نہیں ہے کیونکہ اگر پاکستان انھیں پاسپورٹ دے بھی دیتا تو برطانوی حکومت شاید جرم کی تفتیش کی وجہ سے انھیں آنے نہ دیتی۔‘

No comments:

Post a Comment