Tuesday, 3 June 2014

متحدہ کے رہنما کی گرفتاری، تازہ ترین رد عمل اور تاثرات

متحدہ کے رہنما کی گرفتاری، تازہ ترین رد عمل اور تاثرات



وزیراعظم نواز شریف کے خصوصی معاون برائے سیاسی امور عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ لندن میں الطاف حسین کی گرفتاری سے حکومتِ پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے اس کے باوجود حکومت انہیں ہر طرح کی قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت لندن میں اپنے سفارتخانے سے اس واقعے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق برطانوی حکومت نے اس گرفتاری سے قبل حکومت پاکستان کے پیشگی کوئی رابطہ نہیں کیا۔
ایم کیو ایم کے لندن میں ڈپٹی کنوینر نے الطاف حسین کی گرفتاری کی تصدیق کی اور کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا ’پولیس سرچ وارنٹ لے کر الطاف حسین کے مکان پر پہنچی اور منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں ان سے پوچھ گچھ کرنی چاہی۔ الطاف حسین کی طبیعت کچھ دنوں سے ناساز تھی اور وہ ہسپتال جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے جب پولیس پہنچی۔

Profile of Altaf Muhajir / History of Altaf Muhajir




متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کیس میں لندن میں گرفتار کر لیا گیا،میدان سیاست سےزندان تک الظاف حسین کا سفر کیسا رہا.
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین 17 ستمبر 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئے،،، ان کے والد کا نام نذیر حسین کا تعلق آگرہ سے تھا،،وہ تقسیم کے بعد پاکستان منتقل ہوئے،،، الطاف حسین نے اپنی ابتدائی تعلیم سرکاری اسکول سےحاصل کی،،، جب کہ جامعہ کراچی کے شعبہ فارمیسی سے 1979 میں گریجویشن کی سند حاصل کی،،، الطاف حسین کی سیاسی زندگی کا آغاز جامعہ کراچی سے ہوا،،، جہاں وہ اور ان کے ساتھی طالب علم عظیم طارق نے مل کر آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) کی بنیاد رکھی،،،
1984 میں الطاف حسین نے مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی بنیاد رکھی،،اور پہلی مرتبہ انیس سو ستاسی میں بلدیاتی الیکشن اور انیس سو اٹھاسی میں پارلیمانی انتخابات میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کی،،،الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم کا سفر جاری تھا،،،کہ اس جماعت کے دو ٹکڑے ہو گئےاور ایم کیو ایم حقیقی وجود میں آ گئی،،،یہی وہ وقت تھا،،،جب روشنیوں کے شہر کراچی کو بارود اور آگ نے نگلنا شروع کر دیا،،تشدد کی لہر کے نتیجے میں انیس سو بانوے،،،اور انیس سو ترانوے میں کراچی آپریشن کا آغاز ہوا،،،الطاف حسین پر قتل،،،اور اقدام قتل کے علاوہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات قائم ہوئے،،،تو وہ خاموشی سے لند ن چلے گئے،،،الطاف حسین نے انیس سو بانوے میں کراچی چھوڑ کر لندن میں سیاسی پناہ حاصل کی،،،اور بعد میں برطانوی شہریت بھی لے لی
،،،الطاف حسین لندن سے بیٹھ کر اپنی جماعت چلاتے اور اور تمام بڑے،،،اور اہم نوعیت کے فیصلے کرتے رہے،،،اسی دوران الطاف حسین نے فائزہ نامی خاتون سے شادی کی،،،جو بعد میں علیحدگی پر منتج ہوئی،،،
الطاف حسین کی ایک بیٹی افضا الطاف ہے،،،دو ہزار گیارہ میں متحدہ کے بانی رکن ڈاکٹر عمران فاروق کو لندن میں قتل کر دیا گیا ،،،
کیس کی تفتیش میں سکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین کو بھی شامل کیاگیا،،،اور پھر ایک چھاپے کے دوران الطاف حسین کی رہائش گاہ سے ڈھائی لاکھ پاؤنڈز برآمد کیے گئے،،،یہ وہ رقم تھی جس کمائی کا زریعہ الطاف حسین نہ بتا پائے،،،ہاں اتنا ضرور کہا،،،کہ یہ پارٹی فنڈ ہے،،،لیکن یہ فنڈ ان تک کیسے پہنچا،،،متحدہ قائد کا جواب سکاٹ لینڈ یارڈ کی تسلی نہ کرا سکا،،،اور ان کےخلاف منی لانڈرنگ کا کیس کر دیا گیا،،ان کے سارے اکاؤنٹس منجمد کردیئے گئے،،،جب کہ انہیں نظر بندی کا سامنا کرنا پڑا،،، اور آج سکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف کو باضابطہ گرفتار کرلیا

برطانوی عدالتیں آزاد ہیں، امید ہے انصاف ہو گا

برطانوی عدالتیں آزاد ہیں، امید ہے انصاف ہو گا



یم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری کی اطلاع پر سیاسی جماعتوں کا ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے اور سبھی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق معاملات آگے بڑھنے چاہییں، جبکہ انھوں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو صبر سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی

ایم کیو ایم کے گڑھ یعنی کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کو ایم کیو ایم کا حریف سمجھا جاتا ہے۔ جماعت کے ترجمان زاہد خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کو اس صورتحال میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ساتھ ہمدردی ہے اور امید ہے کہ برطانیہ کی عدالتیں ان کے ساتھ انصاف کریں گی۔
انھوں نے کہا: ’امید ہے کہ وہ ان کے ساتھ انصاف کریں گے کیونکہ وہاں کی عدالتیں اور پولیس آزاد ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی صورتحال کے حوالے سے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو صبر سے کام لینا چاہیے، کراچی کو بند کرنے اور ہنگامے کرنے سے پاکستان کو نقصان ہو گا برطانیہ کو نہیں ہوگا۔
زاہد خان نے کہا کہ برطانیہ میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کے وزیراعظم اور وزیروں کے خلاف تبھی کارروائی ہوتی ہے جب کوئی جرم ہو۔
الطاف حسین کی جانب سے حکومت پاکستان سے پاسپورٹ کی درخواست کی گئی تاہم انھیں پاسپورٹ نہیں دیا گیا۔ اس سوال پر کہ اگر ایسا ہو جاتا تو وہ بچ جاتے کیا پاکستان کی حکومت کا بھی اس میں کوئی کردار نظر آتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں اے این پی کے ترجمان زاہد خان نے کہا کہ ’میرے خیال میں ایسا نہیں ہے کیونکہ اگر پاکستان انھیں پاسپورٹ دے بھی دیتا تو برطانوی حکومت شاید جرم کی تفتیش کی وجہ سے انھیں آنے نہ دیتی۔‘

ایم کیو ایم کے رہنما سینٹرل لندن کے تھانے میں منتقل Altaf Arrested in London

ایم کیو ایم کے رہنما سینٹرل لندن کے تھانے میں منتقل


 

لندن میں میٹروپولیٹن پولیس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ شمال مغربی لندن کے ایک گھر سے ایک ساٹھ سالہ شخص کو منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
لندن میں الطاف حسین کے گھر کے باہر سے بی بی سی اردو سروس کے نامہ عادل شاہ زیب کو پولیس نے بتایا ہے کہ گرفتار شدہ شخص کو مرکزی لندن کے تھانے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس گھر کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا ہجوم ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گھر کے باہر پولیس کی گاڑیاں موجود ہیں اور پولیس اہلکار وقفے وقفے سے تھیلے لے کر گاڑیوں میں منتقل کر رہے ہیں۔
بی بی سی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار شدہ شخص متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین ہیں۔
ادھر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی سے لندن میں خطاب کرتے ہوئے ندیم نصرت نے کہا ہے کہ الطاف حسین کو گرفتار نہیں کیاگیا بلکہ ان کے گھر پر ان کا بیان قلمبند کیا گیا ہے۔
ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر ندیم نصرت نے لندن سیکریٹیریٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان کو پولیس سٹیشن منتقل نہیں کیا ہے۔
لندن پولیس کا کہنا ہے کہ نارتھ ویسٹ لندن کی مجوزہ پراپرٹی میں اب بھی سرچ آپریشن جاری ہے اور یہ کارروائی پولیس کے سپیشلسٹ آپریشنز یونٹ نے کی۔
واضح رہے کہ الطاف حسین کی عمر ساٹھ سال ہے اور وہ نوے کی دہائی کے اوائل سے لندن کے اسی علاقے میں مقیم ہیں جہاں یہ کارروائی کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ چند ماہ قبل لندن پولیس نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی کے یونٹ نے الطاف حسین کے دفتر پر پہلا چھاپہ چھ دسمبر سنہ دو ہزار بارہ کو پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت مارا تھا۔
اس چھاپے کے دوران دفتر سے نقد رقم برآمد ہوئی تھی۔ پولیس نے اس رقم کے بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی تھی تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ یہ رقم پروسیڈ آف کرائم ایکٹ کے تحت قبضے میں لے لی گئی۔
 ولیس نے اٹھارہ جون دو ہزار تیرہ کو شمالی لندن کے دو گھروں پر چھاپہ مارا تھا۔ یہ چھاپہ پولیس اینڈ کرمنل ایکٹ کی دفعہ آٹھ کے تحت مارا گیا تھا اور اس میں پولیس نے ’قابل ذکر‘ مقدار میں رقم قبضے میں لی تھی۔ پولیس نے سرکاری طور پر ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ رقم کتنی تھی۔
چند ماہ قبل بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ میں اوون بینیٹ جونز نے ایم کیو ایم کے قائد کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے علاوہ، منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کراچی میں پارٹی کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے تفتیش کے سلسلے میں لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے چار ہزار افراد سے بات چیت کی تھی۔
برطانوی کراؤن پراسیکیوشن سروس نے باضابطہ طور پر پاکستانی حکام سے ان دو افراد کی تلاش کا بھی کہا ہے جو مبینہ طور پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں برطانیہ کو مطلوب ہیں۔
حال ہی میں ان کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔
لندن میں میٹروپولیٹن پولیس متحدہ قومی موومنٹ کے کئی بینک اکاونٹ منجمد کر کے ٹیکس نہ دینے کے الزامات کے تحت تحقیقات کر رہی تھی۔
ایم کیو ایم ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہے لیکن الطاف حسین نے اپنے ایک ٹیلی فونک خطاب میں کہا تھا کہ لندن پولیس نے ان کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
الطاف حسین نے حال ہی میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر انھیں گرفتار کیا گیا تو کارکن یاد رکھیں کہ ان کا قائد بےگناہ تھا اور بےگناہ ہے۔
ایم کیو ایم کے قانونی ماہر بیرسٹر فروغ نسیم نے بی بی سی کے پرواگرم ’نیوز نائٹ‘ میں پارٹی کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹر عمران کا قتل پارٹی کے مخالفین کی سازش یا کوئی رہزنی کی واردات کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

کراچی اور حیدر آباد سکتے میں

پاکستان کے مقامی نیوز چینلز پر متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی مبینہ گرفتاری کی اطلاع پر کراچی کے تمام کاروباری و تجارتی مراکز بند ہوگئے ہیں جبکہ سی این جی اور پیٹرول پمپ نے بھی لین دین معطل کردی ہے۔
غیر یقینی جیسی صورتحال میں ہر شخص نے گھر کا رخ کیا، جس کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بعض علاقوں میں شدید فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کرلی گئی ہے، جس میں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
پاکستان کے شہر حیدر آباد میں بھی تمام دکانیں اور بازار بند ہو چکے ہیں۔ جگہ جگہ ٹائر جلائے جا رہے ہیں، مختلف علاقوں میں شدید ہوائی فائرنگ جاری ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہو چکی ہے، شہر میں جاری امتحانات کو اچانک منسوخ کرد یا گیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے وجہ سے لوگ پیدل ہی گھر جا رہے ہیں۔

برطانیہ الطاف حسین کا حامی کیوں؟

برطانیہ الطاف حسین کا حامی کیوں؟



برطانوی اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ برطانیہ کے ایم کیو ایم کے سربراہ کو ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنے اور لندن میں ان کی سرگرمیوں کو نظر انداز کی وجہ ایم کیو ایم کا وہ تعاون ہے جو وہ برطانوی انٹیلجنس ایجنسیوں کو مہیا کرتی ہے۔
گارڈین کی رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ کراچی شاید دنیا کا وہ واحد شہر ہے جہاں امریکہ نے برطانیہ کو انٹیلجنس کے حصول میں ’لیڈ رول‘ کی اجازت دے رکھی ہے۔
گارڈین کے مطابق کراچی میں امریکہ کا قونصل خانہ اب ایکٹو انٹیلجنس حاصل نہیں کرتا ہے اور یہ کام برطانیہ کےحوالے ہے۔ کراچی کی انٹیلجنس کے حوالے سے برطانیہ کا سب سے بڑا اثاثہ ایم کیو ایم ہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے تعاون کی وجہ سے برطانیہ کو کراچی کی انٹیلیجنس کا حصول کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ برطانیہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس ایسا شخص موجود ہیں جس کی جماعت کے نمائندے پاکستان کی وفاقی کابینہ میں بھی موجود ہوتے ہیں۔
برطانوی وزارت داخلہ کےایک اہلکار نےاخبار کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کا لندن میں قیام کسی برطانوی سازش کا حصہ نہیں ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ یہ سازش نہیں ہے بلکہ ایک پالیسی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماضی میں پاکستان کی کئی حکومتوں نے لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے رہنما کو پاکستان حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن برطانیہ نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے ایک مرتبہ برطانوی حکومت سے کہا تھا کہ ان کو کیسا لگے گا کہ اگر کوئی شخص پاکستان میں بیٹھ کر برطانیہ میں لوگوں کو تشدد پر اکسائے۔
اکستانی سیاستدان عمران خان کی جماعت تحریک انصاف ایم کیو ایم کی سب سے بڑی مخالف جماعت بن کر ابھری ہے۔ کراچی میں تحریک انصاف کی ایک اہم رہنما کے قتل کے بعد عمران خان کے حامیوں نے برطانوی پولیس کو بارہ ہزار شکایت درج کرائی ہیں جس کے بعد برطانوی پولیس نے لندن میں الطاف حسین کی سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کی ہیں۔
لندن کی پولیس یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر کراچی میں لوگوں کو تشدد پر اکساتے ہیں۔ برطانوی پولیس کو ایک انتہائی بڑے مواد کی چھان بین کرنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق الطاف حسین کے لندن میں قیام کے دوران دو بار برطانوی عدالتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ ایم کیو ایم اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کا سہارا لیتی ہے۔
دو ہزار دس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس افسر نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ اسے کراچی میں ایم کیو ایم سے خطرہ ہے۔
برطانوی جج لارڈ باناٹائن نے اس پولیس افسر کو سیاسی پناہ دینے حکم جاری کیا۔ جج نے تسلیم کیا کہ ایم کیو ایم نے دو سو ایسے پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے جنہوں نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا تھا۔
برطانوی پولیس اب لندن میں ایم کیو ایم کے ایک رہنما عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کر رہی ہے۔ میٹرو پولیٹن پولیس کے بارہ افسران مکمل طور پر اس مقدمے پر مامور ہیں اور اب تک سینکڑوں لوگوں کے بیانات قلمبند کر چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قتل کی تحقیقات کے دوران برطانوی پولیس کو عمران فاروق کے گھر سے ایسے کاغذات بھی ملے ہیں جو پاکستان میں گرفتار ہونے والے ایم کیوایم کے کارکنوں کے ایسے بیانات کی تائید کرتے ہیں کہ انہیں بھارت میں دہشت گردی کی تربیت ملتی ہے
گارڈین نے بھارت سے ایم کیو ایم کے ساتھ اپنے تعلقات سے متعلق جاننا چاہا لیکن بھارت نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
میٹرو پولیٹن پولیس نے لندن میں ایم کیو ایم کے دفاتر پر چھاپے کے دوران 150,000 پونڈ اور مشرقی لندن کے علاقے مل ہل میں الطاف حسین کی رہائش سے0 250,00 پونڈ برآمد کیے۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اتنی بڑی رقم وہاں کیسے پہنچی۔
رپورٹ کے مطابق الطاف حسین کےخلاف تحقیقات انتہائی پیچدہ معاملہ ہے۔ پاکستانی ریاست میں کچھ عناصر ایم کیو ایم کا تحفظ چاہتے جبکہ ملک کی بڑی انٹیلجنس ایجنسی آئی ایس آئی اس کو اپنے قابو میں رکھنا چاہتی ہے۔
البتہ پاکستان میں حالیہ انتخابات کے نتائج سے ایم کیو ایم کمزور ہوئی ہے اس بات کا کم لیکن امکان موجود ہے کہ نواز شریف حکومت ایم کیو ایم کا تحفظ میں پچھلی حکومتوں سے کم دلچسپی کا مظاہرہ کرے گی۔
برطانوی پولیس نےحالیہ ہفتوں میں الطاف حسین کےخلاف جو کارروائیاں کی ہیں ان میں ان کےگھر اور دفاتر پر چھاپوں کےعلاوہ ان کے بھانجے اشتیاق احمد کو گرفتار کرنا ہے۔ اشتیاق احمد کو کس الزام پر گرفتار کیاگیا تھا اس کے بارے میں برطانوی پولیس کچھ بتانے کے لیے تیار نہیں۔ اشتیاق احمد کو ستمبر تک ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔
رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستانی سمجھتے ہیں کہ برطانوی حکومت الطاف حسین کی حامی ہے۔ وہ اس سلسلے میں الطاف حسین کو برطانیہ میں مستقل سکونت کا حوالہ دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک برطانوی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر تسلیم کیا کہ 1999 میں الطاف حسین کو مستقل سکونت دینے کا فیصلہ ایک ’دفتری غلطی‘ کا نتیجہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق ہوم آفس نے کئی بار پوچھنے کے باوجود اس ’دفتری غلطی‘ کی وضاحت نہیں کی۔
پاکستانی الطاف حسین کے اس خفیہ خط کا بھی حوالہ دیتے ہیں جو انہوں نے نائن الیون کے واقعے کے دو ہفتوں بعد برطانوی حکومت کو لکھا تھا۔ اس خط میں الطاف حسین نے برطانوی حکومت کے لیے افغانستان اور پاکستان میں انٹیلیجنس اکھٹےکرنے کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔الطاف حسین نےبرطانوی حکومت کو یقین دلایا کہ وہ پانچ دنوں کے نوٹس پر لاکھوں لوگوں کو دہشتگردی کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے اکھٹے کر سکتے ہیں۔
برطانوی حکومت ماضی میں ایسے کسی خط کی تردید کرتی رہی ہے لیکن اب اسے تسلیم کر لیا ہے۔